دین داری
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - پابندئ شریعت، پرہیزگاری۔ "دین داری کو عبادات کے دائرے میں محدود خیال کریں تو جائے تعجب نہیں۔" ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالم، ٣٣٣:١ )
اشتقاق
عربی اور فارسی سے ماخوذ مرکب 'دین دار' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٥١ء سے "کلیات مومن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پابندئ شریعت، پرہیزگاری۔ "دین داری کو عبادات کے دائرے میں محدود خیال کریں تو جائے تعجب نہیں۔" ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالم، ٣٣٣:١ )
جنس: مؤنث